نئی دہلی، 7 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )نیشنل گرین ٹریبونل نے غازی آباد میں 200سے زیادہ صنعتی اکائیوں کی تحقیقات کر کے یہ پتہ لگانے کی ہدایت دی ہے کہ کیا ان کے احاطے میں بورویل لگائے گئے ہیں۔یہ حکم این جی ٹی نے اس اپیل پر دیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ زمین کے اندر سے اندھا دھند پانی نکالنے کی وجہ سے اس کی سطح میں کمی آ گئی ہے۔جسٹس یو ڈی سالوی کی قیادت والی ایک بنچ نے غازی آباد کے ضلع مجسٹریٹ کو حکام کی ایک ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو تحقیقات کرکے اسے ایک رپورٹ سونپے گی ۔بنچ نے اترپردیش ریاستی صنعتی ترقی کارپوریشن لمیٹڈ کو بھی ایک فریق بناتے ہوئے اسے نوٹس جاری کرکے یکم ستمبر تک جواب دینے کو کہا ہے۔اس بنچ میں ماہر رکن رنجن چٹرجی بھی ہیں۔بنچ نے اترپردیش آلودگی کنٹرول بورڈ کو معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ تک اپنا جواب دینے کا حکم بھی دیا ہے۔ماضی میں گرین ٹریبونل نے وزارت ماحولیات و جنگلات ، سینٹرل زمینی اتھارٹی اترپردیش حکومت، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ اور دیگر کو معاملے میں نوٹس جاری کیا تھا ۔گرین ٹریبونل نے یہ حکم غازی آباد کے رہائشی سشیل راگھو اور غیر سرکاری تنظیم ’سوسائٹی فار پروٹیکشن آف انوائرنمنٹ اینڈ بایوڈایورسٹی‘کی اپیل پر دیا ہے جس میں غازی آباد اور ہاپوڑ کے نوٹیفائڈ علاقوں میں غیر قانونی طریقے سے زمینی پانی کا بے تحاشہ استعمال کررہی سبھی صنعتی اکائیوں کو بند کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔